The Khushi Trust - Introduction

The Khushi Trust - Introduction

تعارف

پاکستان میں ایسی لاتعداد این جی اوز ہیں جو دکھی انسانیت کی خدمت اور ملک سے غربت کے خاتمے کیلئے اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کر رہی ہیں۔ فلاحی ادارے معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی بنتے ہیں۔ یہ فلاحی تنظیمیں معاشرے کا حسن ہوتی ہیں۔ قاری خوشی محمد الازہری ویلفیئر ٹرسٹ (خوشی ٹرسٹ) بھی ایک خوبصورت اضافہ ہے۔ جو بین الاقوامی شہرت یافتہ قاری قرآن تمغہ امتیاز، شیخ عرب و عجم "جناب قاری خوشی محمد الازہری رحمہ اللہ" کے نام پر قائم کیا گیا ہے۔

شخصیت اور خدمات

بزرگ اور نیک صالح لوگوں کی لڑی میں ایک درخشندہ نام قاری خوشی محمد الازہری کا بھی ہے۔ یہ نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ وہ قرآن پاک کے سچے خادم ہونے کی وجہ سے راولپنڈی میں ایک ممتاز حیثیت رکھتے ہیں اور پنڈی کی وجہ شہرت کا باعث بھی ہیں۔ ان کی دلکش آواز آج بھی ملک کی ایک نسل کی یادوں میں ہمیشہ کیلئے نقش ہو چکی ہے۔ انہوں نے پی ٹی وی کے پروگرام "اقرا" میں حروف تہجی سے لے کر قرآن پاک کی مکمل تجوید بچوں کو سکھائی، اور ان کا قصیدہ بردہ آج تک لوگوں کی زبان پر عام ہے۔ محسن و مربی، مشفق و مہربان، استاذ مکرم، بین الاقوامی شہرت یافتہ قاری پاکستان، ترنم کی دنیا کے بے تاج بادشاہ، سابق خطیب ایوان صدر اسلام آباد، ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی کے نامور قاری، سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق اور لاکھوں عاشقان مصطفیٰ کے منظور نظر اور پسندیدہ ترین قاری، قرات کی دنیا کا ایک بہت بڑا نام، بیشمار ملکی و غیر ملکی ایوارڈز اور تمغہ جات کے حامل، صدارتی ایوارڈ یافتہ قاری تمغہ برائے حسن کارکردگی حکومت پاکستان، منفرد لب و لہجہ، مسحور کن لہجہ، پردرد پرسوز، سوز و گداز اور لحن داؤدی سے مزین خوبصورت دلنشین آواز، سفیر اسلام، سفیر پاکستان، ملت اسلامیہ کے بطل جلیل، دلکش، پرکشش، حسین و رعنا، مسحور کن، بارعب، پروقار اور اپنے وقت کی بااثر ترین اعلیٰ شخصیت، لاکھوں عشاقان رسول کے دلوں کی دھڑکن، محبوب المشائخ، تاج العلماء، سونے چاندی، زر و جواہرات اور ہیروں سے بڑھ کر بہت قیمتی ایک نادر اور انمول ہیرا، پروقار اور بے مثال شخصیت۔ فضیلت الشیخ، مقبول عرب و عجم، ملت اسلامیہ کے عظیم فرزند، مکرم و محترم، قاری اعظم پاکستان قاری خوشی محمد صاحب الازہری رحمۃ اللہ علیہ ایک نابغہ روزگار اور شہرہ آفاق شخصیت ہیں۔

The Khushi Trust Introduction

ابتدائی زندگی اور تعلیم

قاری خوشی محمد 24 فروری 1943 بمطابق 19 صفر المظفر 1362 ھ بروز بدھ کو اوکاڑہ کے ایک گاؤں چک نمبر 16 جی۔ڈی میں پیدا ہوئے۔ وہ جنگ جو قبیلے کھرل راجپوت سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اوکاڑہ سے حاصل کی، بعد ازاں کراچی کی جامعہ قاسمیہ میں تین سال کا تجوید اور قرآن کا کورس مکمل کیا۔ مگر قرآن سے ایسا قلبی اور روحانی رشتہ استوار ہوا کہ کبھی تسکین نہ ہوئی، اور جامعہ الازہر مصر سے علم کی پیاس بجھانے چلے گئے، جہاں سے انہوں نے گریجویشن مکمل کی۔ قاری خوشی محمد کا واحد تعارف قرآن پاک ہے، اور اس تعارف کے بعد کسی اور تعارف کی ضرورت نہیں رہتی۔

روحانیت اور طرزِ زندگی

انہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ قرآن پاک کیلئے وقف کر دیا۔ دن رات صرف چھ گھنٹے آرام کرتے، کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہ کھاتے اور دن میں صرف ایک مرتبہ کھاتے تھے۔ تمام درویشانہ صفات ان کی شخصیت میں موجود تھیں۔ انہیں ہمیشہ یہی فکر رہتی تھی کہ زندگی بہت مختصر ہے اور قرآن کی خدمت کا حق ادا نہیں ہو سکا۔ ان کی زندگی کا مقصد صرف اللہ کی خوشنودی اور اسوہ حسنہ ﷺ کی پیروی تھا۔

وفات اور عالمی خدمات

قاری صاحب کو اللہ تعالیٰ نے مختصر زندگی عطا کی۔ 11 اگست 1998ء بمطابق 18 ربیع الثانی 1413 ھ بروز منگل کو صرف 56 سال کی عمر میں ان کا وصال ہو گیا۔ اس مختصر عرصے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار اعزازات سے نوازا۔ پاکستان کے علاوہ سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور مراکش میں بھی ان کی آواز میں قرآن پاک کی تلاوت ریکارڈ کی گئی۔ انہیں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں تلاوت کا شرف حاصل ہوا۔ انہوں نے سپین میں 32 گھنٹوں میں مکمل قرآن پاک کی تلاوت کر کے منفرد اعزاز حاصل کیا۔ سعودی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان پر بھی ان کی قرات نشر کی گئی۔ ابوظہبی میں انہوں نے 85 گھنٹوں میں مکمل قرآن پاک کی تلاوت کی ریکارڈنگ کروائی۔ ان کی آواز کا یہ اثر تھا کہ 25 غیر مسلم ان کی تلاوت سن کر اسلام قبول کر گئے۔

اعزازات اور ورثہ

بھٹو دور میں انہیں ایوان صدر کا امام مقرر کیا گیا، جبکہ جنرل ایوب خان کے دور میں ایوان بالا کے پہلے قاری کی حیثیت سے تعینات کیا گیا۔ 1980 میں انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔ ان کے دو بیٹوں قاری نجم مصطفیٰ (2007) اور محمد محمود (2015) کو بھی تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔ یہ پاکستان کا واحد خاندان ہے جس میں تین تمغہ امتیاز موجود ہیں، جو اس خاندان کی پاکستان سے محبت اور اپنی اپنی خدمات میں اعلیٰ کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔