آسمانی آواز: قاری خوشی محمد الازہری (1943–1998) کی حیات اور علمی و ملی وراثت
پاکستان کی روحانی اور ثقافتی تاریخ کئی عظیم آوازوں سے مزین ہے، لیکن بہت کم آوازیں ایسی ہیں جنہیں قاری خوشی محمد الازہری جیسی پاکیزگی، رعب اور دوام حاصل ہوا۔ پی ٹی وی کے شہرہ آفاق پروگرام "اقراء" کے ذریعے وہ ہر گھر کا حصہ بن گئے۔ وہ صرف ایک قاری نہیں تھے، بلکہ پنجاب کے گمنام کھیتوں اور مصر کی عظیم درسگاہ "جامعہ الازہر" کے درمیان ایک علمی و روحانی پل تھے۔
مٹی سے وابستگی: 16 جی ڈی مدوکا میں ابتدائی زندگی
قاری خوشی محمد صاحب 1943 میں اوکاڑہ کے گاؤں 16 جی ڈی (مدوکا) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق کھرل راجپوت قبیلے کے ایک معزز گھرانے سے تھا۔ دنیا نے انہیں ان کے نظم و ضبط اور خداداد صلاحیتوں سے پہچانا، لیکن ان کا بچپن ایک زندہ دل دیہاتی لڑکے جیسا تھا۔ ان کے چھوٹے بھائی حاجی محمد علی کے مطابق، قاری صاحب بچپن ہی سے انتہائی ذہین تھے لیکن انہیں کھیلوں، بالخصوص والی بال سے بے حد لگاؤ تھا۔ ان کی اس سرگرمی پر کبھی کبھار ان کے والد ناراض بھی ہوتے تھے، کیونکہ وہ اپنے بیٹے کو خالصتاً علمی اور دینی راہ پر گامزن دیکھنا چاہتے تھے۔
